نئی دہلی:30/ جنوری (ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا)اتر پردیش میں غیر قانونی کان کنی کے الزام میں بی چندرکلاسے ای ڈی کی ٹیم نے تحقیقات کی۔ کہا جا رہا ہے کہ ان سے غیرقانونی کان کنی کے ٹینڈر جاری کرنے کے متعلق سوالات کئے گئے۔اس سے قبل بی چندرکلا ای ڈی کے سامنے پیش نہیں ہوئی تھیں اور انہوں نے اپنے وکیل کو دستاویزات کے ساتھ ای ڈی دفتر میں بھیجاتھا،تاہم ایڈی ان دستاویزات سے مطمئن نہیں تھی۔حمیر پور ضلع سے منسلک اس غیر قانونی کانکنی کیس میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی)نے 11لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی، جس میں آئی اے ایس چدرکلا کا نام بھی ہے۔ان پر حمیر پور ڈی ایم رہتے ہوئے ایک کان کنی کے ٹینڈر جاری کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔سی بی آئی نے ایک ایف آئی آر رجسٹر کیا اور کئی چھاپے ماری کی۔چندر کلاکے گھر پربھی چھاپہ ماری ہوئی تھی۔اس کے بعد ای ڈی نے اس پورے عمل میں پیسوں کے لین دین کا پتہ لگانے کے لئے منی لانڈرنگ کا کیس درج کیا ہے، جس کے بعد ملزمان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ای ڈی نے بی چندکلا کو 24جنوری کو لکھنؤ کے دفتر میں پیش ہونے کاحکم دیا تھا لیکن وہ انکوائری میں شامل نہیں ہوئے تھے اور اس نے اپنے وکیل کو متعلقہ دستاویزات کے ساتھ بھیجا۔ای ڈی ان دستاویزات سے مطمئن نہیں تھی، جس کے بعد انہیں آج دوبارہ انہیں پوچھ گچھ کے لئے بلایا تھا۔ذرائع کے مطابق بی چندرکلا سے یہ پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ 31مئی 2012کو جو کان کنی لیز ایس پی ایم ایل سی رمیش مشرا کے گھر والوں (جگدیش سنگھ اور کرن سنگھ)کے نام پر جاری کیا، کیا ان تمام پٹوں کو جاری کرنے کی اجازت اس وقت کے وزیر اعلی اکھلیش یادو اور کان کنی کے وزیر گایتری پرجاپتی کوتھی؟۔